پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے آج قوم کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر اتحاد اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق، دن کا آغاز اسلام آباد میں 31 توپوں کی سلامی اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ کراچی میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب بھی منعقد ہوئی۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں پرچم کشائی کی تقریبات بھی منعقد کی گئیں۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں قائد اعظم محمد علی جناح، تحریک پاکستان کے رہنماؤں اور ان تمام افراد کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے اپنے گھروں، سلامتی اور روزگار کی قربانیاں دیں۔ صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ ‘پاکستان کی سلامتی کا تعلق ہمارے پڑوس میں امن سے ہے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘آزادی صرف ایک تاریخی کامیابی نہیں بلکہ یہ ایک ذمہ داری بھی ہے جسے ہر نسل کو آگے بڑھانا ہے۔ وہ پاکستان جو اپنے لوگوں کی جمہوری خواہش سے وجود میں آیا، اسے مزید مضبوط، محفوظ اور خوشحال بننا چاہیے۔ ہمارا کام صرف یہ یاد رکھنا نہیں کہ پچھلی نسلوں نے کیا حاصل کیا، بلکہ اپنے کام کے ذریعے اس میں اضافہ کرنا بھی ہے۔’
صدر زرداری نے کہا کہ گزشتہ سال نے شہریوں کو پاکستانی قوم کی طاقت کی یاد دلائی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ مختصر فوجی تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ‘معرکہ حق کے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اس کے پاس اپنے دفاع کا پختہ عزم اور صلاحیت بھی موجود ہے۔’ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کریں۔



