اسلام آباد: وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز (PIMS) ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کی افسوسناک ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے کو دبنے نہیں دیا جائے گا اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وزیر صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک دلخراش سانحہ ہے اور وہ اس پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
دوسری جانب، پارلیمنٹ بھی ان ہلاکتوں پر متحرک ہو گئی ہے اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو تحقیقاتی پیش رفت سے آگاہ رکھیں گے اور کسی بھی غفلت کے مرتکب شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا۔







