جیکب آباد، پاکستان کے گرم ترین شہروں میں سے ایک، جہاں کے محنت کشوں کے لیے شدید گرمی محض ایک موسمیاتی مظہر نہیں بلکہ روزمرہ کی بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ 5 جون 2026 کو جیکب آباد میں ایک مزدور کو گدھا گاڑی پر پانی کے کنٹینرز لے جاتے ہوئے دیکھا گیا، یہ منظر اس شہر کی سخت حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جہاں درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
اس شہر میں، جہاں سورج کی تپش ہر چیز کو جھلسا دیتی ہے، مزدوروں کو اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے دن بھر کھلے آسمان تلے کام کرنا پڑتا ہے۔ تعمیراتی مقامات سے لے کر کھیتوں تک اور سڑکوں پر سامان کی نقل و حمل تک، ہر کام جسمانی مشقت کا مطالبہ کرتا ہے جو اس شدید گرمی میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ پانی کی کمی، لو لگنے اور تھکن جیسے مسائل ان کے لیے عام ہیں۔ یہ صرف موسم کی سختی نہیں بلکہ ایک ایسا چیلنج ہے جو ان کی صحت اور زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔
ان محنت کشوں کے پاس اکثر گرمی سے بچنے کے لیے محدود وسائل ہوتے ہیں۔ ٹھنڈے پانی تک رسائی، سایہ دار جگہیں اور آرام کے مواقع نایاب ہیں۔ اس کے باوجود، وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے اس غیر انسانی ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جیکب آباد کے مزدوروں کی یہ کہانی پاکستان کے دیگر گرم علاقوں میں بھی دہرائی جاتی ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات غریب اور کمزور طبقے پر سب سے زیادہ پڑ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو حکومتی اور سماجی سطح پر فوری توجہ کی متقاضی ہے۔







