کراچی کے علاقے منگھوپیر میں ڈکیتی کی کوشش کے دوران فائرنگ سے ایک کم عمر لڑکے کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کے لیے پولیس نے ایک اعلیٰ سطحی آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ اقدام واقعے کی سنگینی اور عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس کا مقصد شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لانا اور ذمہ داران کا تعین کرنا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، اس تحقیقاتی کمیٹی میں ایس ایس پی ویسٹ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایس پی بلدیہ، ایس پی سائٹ، ایس ڈی پی او منگھوپیر، ایس ایچ او منگھوپیر، انویسٹی گیشن انچارج اور انویسٹی گیشن افسر شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ تین روز میں اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے، جس میں واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے۔
اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور شہری حلقوں کی جانب سے پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام نے یقین دلایا ہے کہ کمیٹی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرے گی تاکہ مقتول بچے کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔





