پیرس: دنیا کی معروف کاسمیٹکس کمپنی لوریل (L’Oréal) کو ہیئر ریلیکسرز میں کینسر کے ممکنہ خطرات کو چھپانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ ایک نئے مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی نے صارفین کو ان مصنوعات کے استعمال سے لاحق صحت کے سنگین خطرات سے آگاہ نہیں کیا۔ یہ الزامات عالمی سطح پر کاسمیٹکس انڈسٹری میں تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
یہ مقدمہ جینی مچل نامی ایک خاتون نے دائر کیا ہے، جنہوں نے کئی دہائیوں تک لوریل کے ‘ڈارک اینڈ لولی’ (Dark & Lovely) سمیت دیگر ہیئر ریلیکسر مصنوعات استعمال کرنے کے بعد رحم کے کینسر (uterine cancer) میں مبتلا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان مصنوعات میں اینڈوکرائن ڈسرپٹنگ کیمیکلز (EDCs) جیسے تھیلیٹس (phthalates) شامل ہیں، جو رحم، بیضہ دانی (ovarian) اور چھاتی کے کینسر (breast cancer) سے منسلک ہیں۔ اکتوبر 2022 میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کی ایک تحقیق نے بھی ہیئر ریلیکسرز کے بار بار استعمال اور رحم کے کینسر کے درمیان تعلق ظاہر کیا تھا، خاص طور پر سیاہ فام خواتین میں۔
لوریل نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی مصنوعات محفوظ ہیں اور وہ اپنی مصنوعات کی حفاظت پر پراعتماد ہیں۔ تاہم، مقدمے کا مقصد متاثرہ افراد کو ہرجانہ دلانا اور کمپنیوں کو ان کی مبینہ غفلت کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔ یہ مقدمہ کاسمیٹکس انڈسٹری میں ایک اہم قانونی پیش رفت ہے اور اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں مصنوعات کی تیاری اور ان کی تشہیر کے طریقوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔






