صومالیہ کے ساحلوں پر ایک بار پھر بحری قزاقی کے سائے منڈلانے لگے ہیں، اور اس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن نے مقامی ماہی گیروں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی برادری بحری قزاقی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے، اس کے نتائج ساحلی علاقوں میں رہنے والے غریب ماہی گیروں پر پڑ رہے ہیں جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس خدشے کو جنم دے رہی ہے کہ کہیں یہ مشکلات ہی بحری قزاقی کی واپسی کا سبب نہ بن جائیں۔
ماضی میں صومالیہ میں بحری قزاقی کی ایک بڑی وجہ غیر قانونی ماہی گیری اور حکومتی رٹ کی کمزوری تھی۔ بین الاقوامی افواج کی سخت کارروائیوں کے بعد ایک عرصے تک بحری قزاقی پر قابو پا لیا گیا تھا، لیکن اب یہ دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ تاہم، اس کریک ڈاؤن کا ایک غیر ارادی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ماہی گیروں کو سخت نگرانی اور پابندیوں کا سامنا ہے، جس سے ان کے لیے سمندر میں روزی کمانا مشکل ہو گیا ہے۔ انہیں سمندر میں جانے کے لیے سخت اجازت ناموں اور جانچ پڑتال سے گزرنا پڑتا ہے، اور ذرا سی بھی شک کی صورت میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں نے ان کی معاشی حالت کو مزید بدتر بنا دیا ہے۔ جب جائز روزگار کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں، تو لوگ مایوسی میں غیر قانونی راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہی وہ خطرناک موڑ ہے جہاں بحری قزاقی کی جڑیں دوبارہ مضبوط ہو سکتی ہیں، کیونکہ بے روزگاری اور غربت سے تنگ افراد کو جرائم پیشہ گروہ آسانی سے اپنی طرف مائل کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بحری قزاقی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی، خصوصاً ماہی گیروں کے جائز روزگار کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کو بھی یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر، یہ کریک ڈاؤن بجائے مسئلے کو حل کرنے کے، اسے مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔



