کینیا کی صحت حکام نے ملک میں ایبولا وائرس کے آٹھویں کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں اس مہلک بیماری کا پھیلاؤ تشویشناک صورتحال اختیار کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق، تازہ ترین مریض کا تعلق ممکنہ طور پر ملک کے پہلے ایبولا کیس سے تھا۔
کینیا کی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ نئے مریض کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ملک میں رپورٹ ہونے والے پہلے ایبولا کیس کے براہ راست رابطے میں آیا تھا۔ یہ صورتحال ایبولا کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کے خدشات کو بڑھا رہی ہے اور حکام کو رابطوں کا سراغ لگانے کے عمل کو مزید تیز کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
علاقائی سطح پر ایبولا کے بڑھتے ہوئے کیسز نے عالمی صحت تنظیموں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ کینیا اور اس کے ہمسایہ ممالک میں صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری طور پر صحت مراکز سے رجوع کرنے کی اپیل کی ہے۔

