ملتان: شہر میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد یتیم خانے کے منتظم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی محکمہ محنت کی شکایت پر کی گئی ہے، جس میں چائلڈ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو نامزد کیا ہے، جس پر کم عمر بچوں کو غیر قانونی طور پر ملازمت پر رکھنے کا الزام ہے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق، ہلاک ہونے والے نوجوان کو ایک کار کے نیچے آ کر کچلے جانے سے چند لمحے قبل بھاگتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ یہ دلخراش منظر ایک ویڈیو فوٹیج میں قید ہوا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور جیو نیوز سمیت مختلف ذرائع ابلاغ نے بھی اسے نشر کیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان یتیم خانے سے منسلک تھا اور اسے مبینہ طور پر چائلڈ لیبر کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ توقیر نذیر پر چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یتیم خانوں اور دیگر فلاحی اداروں میں بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین کی جائے گی اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔





