انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹس 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ وہی ایجنسی ہے جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے سخت نفاذ میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے اور اب اس کے ممکنہ کردار پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ انتخابی دن کے قریب یا دوران ICE کی کارروائیاں، خاص طور پر تارکین وطن کی آبادی والے علاقوں میں، ووٹرز کو خوفزدہ کر سکتی ہیں اور انہیں ووٹ ڈالنے سے روک سکتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسی کارروائیاں انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان کھڑا کر سکتی ہیں، جس سے جمہوری عمل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ میں امیگریشن کا مسئلہ ایک حساس سیاسی موضوع بنا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ انتخابی عمل کے دوران ICE کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی سرکاری ایجنسی جمہوری عمل میں مداخلت نہ کرے اور تمام شہریوں کو بلا خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملے۔



