اقوام متحدہ کے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) ایجنسی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) تک غیر مساوی رسائی دنیا بھر میں عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غریب اور ترقی پذیر ممالک کو AI ٹیکنالوجی کے فوائد تک یکساں رسائی حاصل نہ ہوئی تو وہ عالمی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔
عہدیدار نے اس صورتحال کو ‘مواقع کی تقسیم’ (Opportunity Divide) قرار دیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جو کہ مستقبل کی معیشتوں اور معاشروں کی بنیاد بن رہی ہے، اس تک رسائی میں عدم توازن عالمی سطح پر دولت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں موجود عدم مساوات کو مزید بڑھاوا دے سکتا ہے۔
اس انتباہ کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے فوائد کو سب تک پہنچانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو غریب اقوام نہ صرف اقتصادی طور پر بلکہ سماجی اور تکنیکی لحاظ سے بھی پسماندگی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کا یہ عہدیدار عالمی رہنماؤں پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس ‘مواقع کے عدم توازن’ کو دور کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تاکہ کوئی بھی ملک اس انقلابی ٹیکنالوجی کے ثمرات سے محروم نہ رہے۔



