سربیا میں حالیہ انتخابات میں صدر ووچچ کی شکست کے بعد ملک بھر میں جاری مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے۔ دارالحکومت بلغراد میں سینکڑوں مظاہرین نے ایک سرکاری ٹی وی اسٹیشن پر دھاوا بول دیا، جسے صدر ووچچ کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ مظاہرین نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔
اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر ووچچ نے اسے آزادی اظہار رائے اور صحافت کی آزادی پر ایک سنگین حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل میں اس طرح کی پرتشدد کارروائیوں کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ ملک کے جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ صدر ووچچ نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی صورتحال میں ملک میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
سربیا میں انتخابات کے بعد سے سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔ عالمی برادری نے سربیا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقین سے پرامن رہنے اور جمہوری عمل کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔


