سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کے مقدس شہر کو نشانہ بنانے والے ایک ڈرون کو کامیابی سے روک لیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق، یہ ڈرون فضائی دفاعی نظام کے ذریعے اس وقت مار گرایا گیا جب وہ مقدس شہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اس واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنا ہے۔
تاہم، حوثی باغیوں نے مکہ مکرمہ کے علاقے کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ حوثی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی کارروائیاں سعودی عرب کے اندر فوجی اہداف تک محدود ہیں اور وہ مقدس مقامات کو نشانہ نہیں بناتے۔ یہ تازہ ترین واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یمن میں جاری تنازعہ کے باعث سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دشمنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور دونوں فریق ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
مکہ مکرمہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے، اور اس پر کسی بھی حملے کی کوشش کو شدید تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد یمن میں 2015 سے حوثی باغیوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کرنا ہے۔ اس تنازعے نے خطے میں ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے اور علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔






