وزیر دفاع خواجہ آصف نے حکومتوں کی جانب سے سیاسی انتقامی کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں “پہلے گرفتار کرو، پھر الزامات طے کرو” کا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ ریمارکس ایک تقریب کے دوران دیے۔
خواجہ آصف نے اپنے دورِ اسیری کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں اٹک قلعے میں قید رکھا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت پروان چڑھ سکے۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے پاکستان کے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے تاریخی کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اور انہیں قومی دھارے میں شامل کر کے ملک کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔




