برطانیہ نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور سرحدی و ویزا نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کو مزید 8 ملین پاؤنڈ (تقریباً 2.8 ارب پاکستانی روپے) فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق، یہ فنڈز دونوں ممالک کے درمیان جاری شراکت داری کا حصہ ہیں جس کا مقصد منظم امیگریشن کو فروغ دینا اور انسانی اسمگلنگ کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ اقدام برطانیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غیر قانونی نقل مکانی ایک عالمی چیلنج بن چکی ہے۔
یہ اضافی فنڈز پاکستان کی سرحدی سیکیورٹی کو بہتر بنانے، ویزا درخواستوں کے عمل کو جدید بنانے اور غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی اور واپسی کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔ برطانوی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ اقدام برطانیہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔ ایک برطانوی وزیر نے پاکستان کے امریکہ-ایران ڈیل میں کردار پر بھی اظہار تشکر کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر سفارتی تعلقات اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
غیر قانونی امیگریشن ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ برطانیہ کا یہ اقدام پاکستان کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو وہ اپنے سرحدی علاقوں میں استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ شراکت داری نہ صرف غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے میں مدد دے گی بلکہ ایک محفوظ اور منظم امیگریشن نظام کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہوگی، جس سے دونوں اقوام کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ تعاون مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کرے گا۔



