لاہور (ویب ڈیسک) – پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد، وفاقی حکومت نے ملک میں جاری کفایت شعاری مہم کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت سرکاری حکام پر ایندھن کے استعمال، دفتری اخراجات اور غیر ملکی دوروں پر عائد تمام پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔
تاہم، اس حکومتی فیصلے کے باوجود ملک بھر میں کاروباری اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور دکانیں و بازار پہلے سے طے شدہ اوقات کے مطابق جلد بند ہوتے رہیں گے۔ اس صورتحال نے تاجر برادری میں مایوسی پیدا کی ہے اور ان کے لیے خوشی منانے کی کوئی خاص وجہ نہیں چھوڑی۔
تاجر برادری کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ توانائی کی بچت کے نام پر نافذ کیے گئے جلد کاروباری اوقات کو ختم کیا جائے تاکہ وہ اپنی تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھ سکیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جلد دکانیں بند کرنے سے ان کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ کفایت شعاری کے دیگر اقدامات کے خاتمے کے باوجود کاروباری اوقات میں تبدیلی نہ لانا تاجروں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔





