افریقی اور کیریبین ممالک کا بحر اوقیانوس کے پار غلامی پر باضابطہ معافی کا مطالبہ

افریقی اور کیریبین ممالک کے رہنماؤں نے بحر اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت (transatlantic slave trade) کے تاریخی ظلم پر باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ان ممالک سے کیا گیا ہے جو اس شرمناک تجارت سے مستفید ہوئے اور جنہوں نے صدیوں تک افریقیوں کو غلام بنا کر ان کا استحصال کیا۔

ان رہنماؤں نے صرف معافی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ قرضوں میں ریلیف (debt relief) اور مالی معاوضے (financial compensation) کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدیوں پر محیط اس غلامی کے نظام نے افریقی اور کیریبین خطوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ مغربی ممالک اس سے بے پناہ دولت کما کر ترقی کی منازل طے کرتے رہے۔

یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں تاریخی ناانصافیوں اور نسل پرستی کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ افریقی اور کیریبین اقوام کا یہ موقف ہے کہ جب تک ماضی کی غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور ان کے نتائج کی تلافی نہیں کی جاتی، حقیقی انصاف اور مساوات کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر انصاف اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • Related Posts

    امریکہ کا قیمتوں میں استحکام لانے کی کوشش میں ہیٹنگ آئل کے ذخیرے کا ایک تہائی حصہ قرض پر جاری کرنے کا ہدف

    امریکی حکومت نے ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام کا اعلان کیا ہے۔ اس…

    برطانوی مصنفین کا ‘فلسطین ایکشن’ پر ‘ظالمانہ’ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

    برطانیہ کے معروف مصنفین اور ادیبوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘فلسطین ایکشن’ نامی گروپ پر عائد ‘ظالمانہ’ پابندی کو فوری طور پر ختم کرے۔ یہ مطالبہ…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔