اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے بجٹ میں کٹوتی کی تحاریک پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ملک میں منشیات کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے حکومتی عزم پر سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب منشیات کی لعنت معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، اس اہم ڈویژن کے وسائل میں کمی کرنا ناقابل فہم ہے۔
نور عالم خان نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن منشیات کی روک تھام، سمگلنگ کے خلاف کارروائیوں اور متاثرین کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے بقول، اس کے بجٹ میں کٹوتی کا مطلب اس اہم محاذ پر حکومت کی کمزور ہوتی گرفت ہے، جس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کٹوتی کی ان تحاریک کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور اس ڈویژن کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ یہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے ادا کر سکے۔
رکن قومی اسمبلی نے خبردار کیا کہ منشیات کی لعنت نہ صرف معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھے اور نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کو درکار تمام وسائل فراہم کرے۔ نور عالم خان نے مزید کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی غفلت یا بجٹ میں کمی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مسئلے پر متحد ہو کر کام کریں۔





