امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے مقصد سے طے پانے والے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اب پہلے سے کہیں زیادہ مصروف نظر آ رہی ہے۔
معاہدے پر دستخط کے بعد سے اس آبی گزرگاہ میں بحری ٹریفک میں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک واضح مثال ہفتے کے روز دیکھنے میں آئی جب صرف ایک دن میں 42 بحری جہازوں نے اس راستے سے سفر کیا۔ یہ اعداد و شمار خطے میں کشیدگی میں کمی اور بحری سرگرمیوں میں اعتماد کی بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیش نظر، بحری جہازوں کی آمدورفت میں یہ اضافہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری کا باعث بنا ہے بلکہ اس نے خطے کی بحری سلامتی اور اقتصادی استحکام پر بھی گہرے مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔



