اسلام آباد: حکومت نے 205 ارب روپے مالیت کی کھاریاں-راولپنڈی موٹروے (ایم-13) کا ٹھیکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو مسابقتی بولی کے عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے، مذاکراتی عمل کے ذریعے دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد 117 کلومیٹر طویل اس منصوبے کا جلد آغاز اور تیز رفتار تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کے ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ پی تھری اے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے ترکیہ سے ورچوئلی کی۔ ذرائع کے مطابق، منصوبے کی فوری نوعیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔ ایف ڈبلیو او، جو کہ پاک فوج کا انجینئرنگ اور تعمیراتی شعبہ ہے، کو ٹھیکہ دینے کا فیصلہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی سفارش پر کیا گیا۔ این ایچ اے نے دلیل دی کہ ایف ڈبلیو او پہلے ہی لاہور-راولپنڈی موٹروے کوریڈور کے دو ملحقہ حصوں کو مکمل کر چکا ہے، جس کا کھاریاں-راولپنڈی سیکشن بھی ایک حصہ ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پی تھری اے ایکٹ کا سیکشن 20 مخصوص حالات میں مسابقتی بولی کے بجائے مذاکراتی خریداری کی اجازت دیتا ہے۔ حکومت اس منصوبے کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا چاہتی ہے کیونکہ یہ لاہور-راولپنڈی کے درمیان فاصلے کو تقریباً 100 کلومیٹر کم کر دے گا اور موجودہ لاہور-اسلام آباد موٹروے (ایم-2) کے مقابلے میں سفر کے وقت میں ایک گھنٹے سے زیادہ کی کمی لائے گا۔




