پاکستان کے ضلع رحیم یار خان کے ایک گاؤں میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑنے سے ایک ہی خاندان کے دس افراد شدید متاثر ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس وبا کے نتیجے میں اسی خاندان کی دو کمسن بچیاں جان کی بازی ہار گئی ہیں۔ جاں بحق ہونے والی بچیوں کی شناخت 9 سالہ علیشہ بی بی اور 4 سالہ پاکیزہ بی بی کے نام سے ہوئی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق، متاثرہ خاندان کے دیگر آٹھ افراد بھی ہیضے کی علامات کے ساتھ اسپتال میں زیر علاج ہیں، جن میں سے چند کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ وبا گاؤں میں آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے پھیلی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ علاقے میں صاف پانی کی فراہمی کا نظام انتہائی ناقص ہے اور اکثر لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ گاؤں کا دورہ کیا ہے اور پانی کے نمونے حاصل کر لیے ہیں۔ حکام نے علاقے میں طبی عملے کی ٹیمیں بھی روانہ کی ہیں تاکہ مزید افراد کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے اور متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پینے کے لیے ابلا ہوا پانی استعمال کریں اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ ہیضے جیسی مہلک بیماریوں سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے کئی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں آلودہ پانی اور ناقص صفائی ستھرائی کی وجہ سے ہیضے اور دیگر آبی بیماریوں کا پھیلنا ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے نتیجے میں ہر سال سینکڑوں افراد اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں۔ حکومت کو اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔



