پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے، جہاں 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 3.7 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور عوامی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اس نمایاں اضافے کی بنیادی وجوہات میں موبائل ایپلیکیشنز کا وسیع پیمانے پر استعمال، انٹرنیٹ بینکنگ کی مقبولیت، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فوری ادائیگی کے نظام ‘راست’ (Raast) کی کامیابی شامل ہیں۔ صارفین اب روایتی بینکنگ کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے مالی لین دین میں تیزی اور آسانی آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ توڑ کارکردگی پاکستانی عوام کے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا یہ فروغ نہ صرف معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد دے رہا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں میں بھی سہولت لا رہا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ برسوں میں یہ رجحان مزید تقویت پکڑے گا اور پاکستان ایک مضبوط ڈیجیٹل معیشت کی جانب گامزن ہوگا۔



