راولپنڈی: جرگے کے حکم پر شادی شدہ خاتون سدرہ عرب کے بہیمانہ قتل کے مقدمے کا ٹرائل راولپنڈی کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام کیس کی حساسیت اور اس میں ملوث عناصر کی سنگینی کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق، سدرہ عرب کو ایک مقامی جرگے کے غیر قانونی اور غیر آئینی حکم پر قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جرگے نے مبینہ طور پر کسی خاندانی تنازع یا ‘کارو کاری’ کے الزام کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا تھا۔ اس واقعے نے ملک بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا، جہاں جرگوں کے غیر آئینی فیصلوں کے خلاف آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔ پولیس نے اس کیس میں ملوث کئی افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں جرگے کے اراکین اور مقتولہ کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔
مقدمے کو انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں منتقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے سنگین جرائم کو تیزی سے نمٹایا جا سکے اور ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا دی جا سکے۔ یہ فیصلہ ایسے غیر قانونی جرگوں کے خلاف ایک واضح پیغام ہے جو آئین اور قانون سے بالا تر ہو کر اپنے فیصلے سناتے ہیں۔ توقع ہے کہ انسدادِ دہشتگردی کی عدالت اس مقدمے کی سماعت کو جلد مکمل کرے گی اور سدرہ عرب کے لواحقین کو انصاف ملے گا، جس سے معاشرے میں ایسے غیر انسانی اقدامات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔






