امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ای جین کیرول کے جنسی زیادتی کے مقدمے میں دائر اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو ای جین کیرول کو 5 ملین ڈالر (تقریباً 3.6 ملین پاؤنڈ) ہرجانے کے طور پر ادا کرنے ہوں گے جو انہیں پہلے ہی ایوارڈ کیے جا چکے تھے۔
یہ مقدمہ ای جین کیرول کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر 1990 کی دہائی میں مین ہٹن کے ایک ڈپارٹمنٹل سٹور میں جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا۔ گزشتہ سال ایک جیوری نے ٹرمپ کو جنسی زیادتی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور انہیں کیرول کو ہرجانے کے طور پر 5 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جسے اب سپریم کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے لیے ایک اور قانونی دھچکا ہے، جو اس وقت متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس فیصلے سے ای جین کیرول کے دعووں کی توثیق ہوئی ہے اور انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنی ہے۔ یہ کیس امریکی قانونی تاریخ میں ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر عوامی شخصیات کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات کے حوالے سے۔







