امریکہ نے عراق کو ڈالر کی ترسیل دوبارہ شروع کر دی ہے، جو کئی مہینوں کی معطلی کے بعد بحال ہوئی ہے۔ اس اقدام سے عراق کی معیشت کو سہارا ملنے کی توقع ہے اور ملک کو درپیش مالیاتی چیلنجز میں کمی آنے کا امکان ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عراق کو ڈالر کی یہ ترسیل روک دی تھی تاکہ بغداد حکومت پر ایران سے فاصلہ اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کا مقصد تہران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کم کرنا تھا۔
ڈالر کی ترسیل کی بحالی کو امریکہ اور عراق کے تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس فیصلے سے عراق کی مالیاتی صورتحال میں بہتری آنے کی امید ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی ایک نئی کوشش کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔



