اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) نے ایک ایسے بل کو آگے بڑھا دیا ہے جس کا مقصد لاؤڈ اسپیکروں پر مسلمانوں کی اذان پر پابندی عائد کرنا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں مذہبی آزادیوں اور بین المذاہب تعلقات کے حوالے سے پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس بل کی منظوری کی جانب پیش قدمی نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
فلسطینی نیشنل کونسل کے سربراہ نے اس اسرائیلی اقدام کو ‘جرم اور قانون سازی کی دہشت گردی’ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بل مذہبی آزادیوں پر براہ راست حملہ ہے اور اس کا مقصد فلسطینیوں کی شناخت اور ان کے مذہبی شعائر کو دبانا ہے۔ ان کے بقول، ایسے اقدامات سے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔
اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو اس کے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں مذہبی آزادیوں اور بین المذاہب تعلقات پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین نے بھی اس بل پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ ملے گا۔



