مغربی بنگال کی حکومت نے سکولوں میں بچوں کو دیے جانے والے دوپہر کے کھانے کے مینو سے انڈوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر ایک وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ بحث بچوں کی غذائیت اور خوراک کے انتخاب کے حق سے متعلق ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ پورے ملک میں غذائی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ماہرینِ غذائیت اور سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ انڈے پروٹین کا ایک سستا اور بہترین ذریعہ ہیں، خاص طور پر غریب اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے ان کی غذائی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ انڈوں کو مینو سے ہٹانے سے بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتے ہیں۔ دوسری جانب، کچھ حلقے خوراک کے انتخاب کی آزادی اور متبادل غذائی اجزاء کی فراہمی پر زور دے رہے ہیں، تاہم انڈوں کا کوئی مؤثر اور سستا متبادل فوری طور پر دستیاب نہیں۔
اس فیصلے نے نہ صرف مغربی بنگال بلکہ پورے ملک میں سکولی بچوں کے لیے فراہم کی جانے والی غذائی امداد کی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو متوازن اور صحت بخش غذا فراہم کریں تاکہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما یقینی بنائی جا سکے۔ اس تنازعے کے بعد ریاستی حکومت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے یا انڈوں کا کوئی مناسب غذائی متبادل فراہم کرے جو بچوں کی غذائی ضروریات کو پورا کر سکے۔

