بیجنگ: چین کے معروف بین الاقوامی تعلقات کے ماہر وکٹر گاؤ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو جاتا ہے تو پاکستانی وزیر اعظم اور ملک کی عسکری قیادت (فیلڈ مارشل) نوبل امن انعام کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ بیان خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی ایک ممکنہ صورت پیش کرتا ہے۔ وکٹر گاؤ، جو چینی میڈیا میں ایک نمایاں تجزیہ کار کے طور پر جانے جاتے ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن کا قیام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس تناظر میں، چینی قیادت نے بھی پاکستان کے ساتھ علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنے تعاون کو سراہا ہے۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کی علاقائی امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور اسے خطے میں استحکام کا ایک اہم ستون سمجھا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات اور مشترکہ مفادات، خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبے کے تحت، علاقائی روابط اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں، جو بالواسطہ طور پر امن کے قیام میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی امن کی خواہش اور اس کے لیے کی جانے والی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔
وکٹر گاؤ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ افغانستان میں امن کی بحالی ہو یا پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری، پاکستان نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر یہ کوششیں ثمر آور ہوتی ہیں اور خطے میں حقیقی اور دیرپا امن قائم ہوتا ہے، تو یہ بلاشبہ ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔ نوبل امن انعام کا حصول اس کامیابی کا ایک عالمی اعتراف ہوگا جو پاکستان کی قیادت کی بصیرت اور عزم کو ظاہر کرے گا۔ یہ بیان عالمی سطح پر پاکستان کے امن کے لیے کردار کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔





