غزہ سے سامنے آنے والی ایک وائرل تصویر نے کئی دلوں کو دہلا دیا ہے، جس میں ایک بندھے ہوئے فلسطینی قیدی کو دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر نے دو فلسطینی ماؤں کے لیے ایک انتہائی تکلیف دہ صورتحال پیدا کر دی ہے، جو دونوں ہی یہ یقین رکھتی ہیں کہ یہ تصویر ان کے لاپتہ بیٹے کی ہے۔
یہ دونوں مائیں، جو ایک دوسرے سے بے خبر ہیں، اس بات پر مصر ہیں کہ تصویر میں نظر آنے والا شخص ان کا بیٹا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کی جسمانی ساخت، لباس یا دیگر مخصوص علامات سے انہیں پہچانا ہے۔ یہ صورتحال غزہ میں جاری تنازعے کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو درپیش شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی کی عکاسی کرتی ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد لاپتہ ہو چکے ہیں یا ان کی قسمت کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ایسی وائرل تصاویر اکثر لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے لیے امید اور مایوسی کا ایک عجیب امتزاج لے کر آتی ہیں، جہاں ہر نئی تصویر میں وہ اپنے پیاروں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ واقعہ اس انسانی المیے کی ایک اور مثال ہے جو جنگ زدہ علاقوں میں خاندانوں کو درپیش ہے۔




