غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث بے گھر ہونے والے کسان اب اپنے خیموں کے قریب موجود مٹی میں فصلیں اگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ اقدام ان کی بقا کی جدوجہد کا عکاس ہے، کیونکہ غزہ کی زرعی زمینوں کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے 95 فیصد کھیتوں کو تباہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں علاقے میں قحط کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور لوگ امداد پر مکمل انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ زرعی شعبے کی یہ تباہی غزہ کی آبادی کو بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے دہانے پر لے آئی ہے، جہاں لاکھوں افراد کو روزانہ کی بنیاد پر خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔
ان حالات میں، بے گھر کسانوں کی جانب سے خیموں کے قریب چھوٹی سی جگہوں پر سبزیوں اور دیگر فصلوں کی کاشت کی کوششیں نہ صرف ان کی ہمت اور عزم کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ غزہ میں خوراک کی شدید قلت کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اقدامات اگرچہ بڑے پیمانے پر خوراک کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے، لیکن یہ مقامی سطح پر کچھ حد تک خود انحصاری پیدا کرنے کی ایک مایوس کن کوشش ہے۔




