آسٹریلوی گودی مزدوروں کا اے آئی مذاکرات میں 28 گھنٹے کے ہفتے کا مطالبہ

آسٹریلیا میں گودی مزدوروں کی ایک یونین نے مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر 28 گھنٹے کے ورکنگ ہفتے کا مطالبہ کیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ بندرگاہوں پر اے آئی ٹیکنالوجی کے تجربات کے دوران مزدور براہ راست آٹومیشن کی زد میں آ رہے ہیں، جس سے ان کی ملازمتوں اور کام کے اوقات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مزدور یونین کے نمائندوں نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی بندرگاہوں کے آپریشنز میں تیزی سے ضم ہو رہی ہے، جس سے انسانی محنت کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی کارکردگی میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن اس کا براہ راست اثر مزدوروں کی ملازمتوں اور ان کے کام کے اوقات پر پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں، یونین کا خیال ہے کہ کام کے اوقات میں کمی لانا مزدوروں کو بے روزگاری سے بچانے اور ان کے معیار زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے روزگار پر پڑنے والے اثرات پر بحث جاری ہے۔ آسٹریلوی گودی مزدوروں کی یہ تحریک ممکنہ طور پر دیگر شعبوں اور ممالک میں بھی اسی طرح کے مطالبات کی راہ ہموار کر سکتی ہے جہاں آٹومیشن اور اے آئی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ مذاکرات میں 28 گھنٹے کے ہفتے کا مطالبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزدور تنظیمیں مستقبل میں ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے نئے حل تلاش کر رہی ہیں۔

  • Related Posts

    کابل اور اسلام آباد کے درمیان فضائی سفر مزید آسان، یکم نومبر سے روزانہ پروازیں

    کابل: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفر اب مزید آسان ہونے جا رہا ہے، کیونکہ افغان ایئرلائن کام ایئر نے کابل-اسلام آباد فضائی روٹ پر اپنی پروازوں میں نمایاں توسیع…

    اردن کے بادشاہ کا چرچ پر مہلک حملے کے بعد “آہنی ہاتھ” سے نمٹنے کا حکم

    اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے ہفتے کے روز سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک چرچ میں جنازے کی تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والے مسلح افراد…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔