نیٹو کے اتحادی ممالک نے ایک بڑے نئے میزائل منصوبے کے لیے 37 ارب پاؤنڈ (تقریباً 47 ارب امریکی ڈالر) کی خطیر رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد اتحادیوں کی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانا اور انہیں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے اور دفاعی استعداد کار کو مضبوط بنانے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
اس اہم منصوبے پر مزید غور و خوض کے لیے برطانوی وزیر اعظم سر کیر سٹارمر ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں تقریباً ایک درجن اتحادی رہنماؤں کا اجلاس طلب کریں گے۔ اس سربراہی اجلاس میں منصوبے کی تفصیلات، اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور مختلف ممالک کے درمیان تعاون کے پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ توقع ہے کہ یہ اجلاس منصوبے کو عملی شکل دینے اور اس کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کرے گا۔
یہ نیا میزائل منصوبہ نیٹو کے اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف اتحادی ممالک کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنائے گا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے یورپ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مؤثر دفاع کو یقینی بنایا جا سکے گا۔




