آج مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی دسویں برسی منائی جا رہی ہے، ایک ایسا دن جو کشمیری نوجوانوں کے لیے مزاحمت اور جدوجہد کی ایک علامت بن چکا ہے۔ 8 جولائی 2016 کو ان کی شہادت نے مقبوضہ وادی میں آزادی کی تحریک کو ایک نئی جہت دی تھی اور آج دس سال بعد بھی ان کا نام کشمیریوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ یہ دن نہ صرف برہان وانی کی یاد دلاتا ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بے چینی اور نوجوانوں کی جدوجہد کی عکاسی بھی کرتا ہے، جو ایک دہائی گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوئی۔
برہان وانی کی شہادت کے بعد سے گزرے دس سالوں میں مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کی زندگیوں میں بے چینی اور جدوجہد مزید گہری ہوئی ہے۔ بھارتی تسلط کے تحت انہیں مسلسل سیاسی جبر، بنیادی آزادیوں کی پامالی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندشیں، کرفیو اور فوجی آپریشنز نے ان کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس ماحول میں، برہان وانی کی میراث انہیں نہ صرف مزاحمت کی ترغیب دیتی ہے بلکہ ایک ایسے مستقبل کی امید بھی دلاتی ہے جہاں وہ اپنے حقوق اور شناخت کے ساتھ آزادانہ زندگی گزار سکیں۔
دس سال گزرنے کے باوجود، کشمیری نوجوانوں میں آزادی اور خود ارادیت کی خواہش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ برہان وانی کی شہادت نے انہیں ایک نئی سمت دی تھی اور آج بھی ان کا نام ان کی جدوجہد کا ایک اہم حصہ ہے۔ عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز رہنی چاہیے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو ان کے جائز حقوق مل سکیں اور وہ ایک پرامن اور باوقار زندگی گزار سکیں۔ یہ برسی صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہے کہ جب تک آزادی حاصل نہیں ہو جاتی، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔




