اسلام آباد – سینیٹ کی داخلہ امور کی قائمہ کمیٹی نے ایک ایسے بل کی منظوری دے دی ہے جس میں سابق اراکین پارلیمنٹ، ان کے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے لیے مفت سرکاری (نیلے) پاسپورٹ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ اقدام سابق قانون سازوں اور ان کے خاندانوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جو ان کی پارلیمانی خدمات کے اعتراف میں ایک اہم مراعات ہے۔
یہ ترمیم اراکین پارلیمنٹ (تنخواہیں اور الاؤنسز) ایکٹ 2026 میں کی گئی ہے۔ اس بل کو سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا تھا اور کمیٹی نے اس کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ اس ترمیم کا مقصد سابق اراکین پارلیمنٹ کو ان کی خدمات کے اعتراف میں خصوصی مراعات فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی سابقہ حیثیت کے مطابق سفری سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔
مجوزہ ترمیم کے تحت، سابق اراکین پارلیمنٹ کو نہ صرف خود بلکہ ان کے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کو بھی سرکاری حیثیت کے حامل نیلے پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے۔ یہ پاسپورٹ انہیں سرکاری دوروں اور دیگر سفری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیں گے، جس سے ان کی سابقہ حیثیت کا احترام برقرار رہے گا اور انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی سہولت میسر آئے گی۔




