کرپٹو ارب پتیوں کا نیا نظام: جہاں ووٹ کی قیمت مالی حیثیت سے طے ہوتی ہے

کرپٹو کرنسی کی دنیا کے چند امیر ترین افراد ایک ایسے نئے سماجی اور سیاسی نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں ووٹ کا حق اور اس کی قوت براہ راست مالی حیثیت سے منسلک ہوگی۔ ان ارب پتیوں کا خیال ہے کہ روایتی جمہوریت اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ایک متبادل نظام متعارف کرایا جائے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ جمہوری ماڈل، جو صدیوں سے رائج ہے، اب جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اسی سوچ کے تحت، یہ کرپٹو ارب پتی اپنی خود مختار ‘قومیں’ یا ‘ریاستیں’ قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جہاں حکمرانی اور فیصلہ سازی کے عمل میں مالی سرمایہ کاری کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگی۔

اس نئے تصور کے تحت، ایک شہری کی ووٹنگ پاور اس کے پاس موجود کرپٹو اثاثوں یا دیگر مالی وسائل کی مقدار پر منحصر ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ دولت مند افراد کے پاس زیادہ سیاسی اثر و رسوخ ہوگا۔ یہ ماڈل جمہوریت کے بنیادی اصولوں، یعنی ‘ایک شخص ایک ووٹ’ کے خلاف ایک انقلابی قدم سمجھا جا رہا ہے، اور اس پر عالمی سطح پر بحث و مباحثہ متوقع ہے۔

  • Related Posts

    سیاسی انتہا پسندی کا خود کو تباہ کرنے کا رجحان

    سیاسی انتہا پسندی ایک ایسا رجحان ہے جو اکثر خود کو ہی نگل جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی سیاسی تحریک یا نظریہ اپنی انتہا پر پہنچتا ہے…

    امریکی وسط مدتی انتخابات: اوباما نے ٹرمپ پر کرپشن اور دھوکہ دہی کا الزام لگایا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ووٹروں سے کہہ رہے تھے کہ وہ وسط مدتی انتخابات کو ایسے دیکھیں جیسے وہ خود بیلٹ پر ہوں۔ ہفتے کے روز ان کے ایک ڈیموکریٹک…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔