ٹیمپا/تہران: امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے 12 جولائی کو ایران کے خلاف جارحانہ حملوں کا ایک نیا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔ ان حملوں میں متعدد مقامات پر درجنوں اہداف کو درست ہدف کو نشانہ بنانے والے (precision) گولہ بارود سے نشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی جہاز رانی پر ایران کے حملے جاری رکھنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
سینٹرل کمانڈ نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ اس کی افواج نے ایرانی فوجی فضائی دفاعی نظام سمیت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب آبنائے ہرمز کے حساس علاقے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ دوسری جانب، ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کی نشاندہی کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کی جانے والی یہ کارروائیاں خطے میں مزید عدم استحکام اور بڑے تصادم کا باعث بن سکتی ہیں۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔



