آسٹریلوی پولیس نے ایک برطانوی سیاح پیٹر فالکونیو کے قتل کے پچیس سال بعد اس کیس سے متعلق کچھ ایسی تصاویر جاری کی ہیں جو پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔ پولیس کو امید ہے کہ یہ نئی تصاویر اس معاملے میں نئی معلومات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی اور اس پراسرار کیس کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
ان تصاویر کو جاری کرنے کا بنیادی مقصد عوام کی یادداشت کو تازہ کرنا ہے تاکہ پیٹر فالکونیو کی لاش کی تلاش میں مدد مل سکے۔ پیٹر فالکونیو کو 25 سال قبل آسٹریلیا کے شمالی علاقے میں قتل کر دیا گیا تھا، تاہم ان کی لاش آج تک نہیں مل سکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر ان افراد کی یادداشت کو تازہ کر سکتی ہیں جو اس واقعے کے وقت وہاں موجود تھے یا اس سے متعلق کوئی معلومات رکھتے ہیں۔
حکام کو یقین ہے کہ ان نئی تصاویر کی مدد سے پیٹر فالکونیو کی لاش کو تلاش کرنے میں پیش رفت ہو سکتی ہے، جس سے ان کے خاندان کو ایک طویل انتظار کے بعد کچھ سکون مل سکے گا۔ یہ کیس آسٹریلیا کی تاریخ کے سب سے پراسرار اور حل طلب کیسز میں سے ایک رہا ہے، اور پولیس اب بھی اس کے مکمل حل کے لیے پرعزم ہے۔

