بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں بدھ کے روز دہشت گردوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ بنوں کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ریٹائرڈ) کیپٹن محمد فرقان بلال نے واقعے کی تصدیق کی جبکہ مقامی ہسپتال انتظامیہ نے زخمیوں کی تفصیلات فراہم کیں۔
اطلاعات کے مطابق، حملہ آوروں نے میریاں پولیس اسٹیشن میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ٹکرانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ دھماکے کے بعد دہشت گردوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان کافی دیر تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس سے پولیس اسٹیشن کی عمارت کے علاوہ قریبی رہائشی علاقے بھی متاثر ہوئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی، جبکہ اضافی پولیس دستے اور پولیس امن کمیٹی کے ارکان بھی موقع پر پہنچ گئے۔
پولیس اسٹیشن پر حملے سے قبل، دہشت گردوں نے اسٹیشن جانے والے راستے پر پہلے سے خراب ایک پل کو دھماکے سے اڑا دیا تاکہ کمک اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔ حملے کے بعد، علاقے کے مکینوں نے امدادی کارروائیوں میں بھرپور مدد کی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بنوں ضلع میں سیکیورٹی کے واقعات تواتر سے پیش آتے رہے ہیں۔ رواں سال اپریل میں بھی ڈومیل پولیس اسٹیشن پر ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم پانچ شہری ہلاک اور ایک پولیس اہلکار سمیت 13 دیگر زخمی ہوئے تھے۔






