پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ تجارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو گزشتہ مالی سال (مالی سال 2024) کے دوران اپنی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے کابل کو اپنی تجارتی ضروریات کے لیے تیزی سے ایرانی بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے علاقائی تجارت اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2024 کے پہلے گیارہ ماہ (جولائی تا مئی) میں ٹرانزٹ تجارت کا حجم 500 ملین ڈالر تک گر گیا ہے، جبکہ مالی سال 2022 میں یہ 1.8 بلین ڈالر تھا۔ اسی طرح، کنٹینرز کی تعداد بھی 40,000 سے کم ہو کر صرف 10,000 رہ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار 2010-11 کی بلند ترین سطح سے بہت کم ہیں، جب دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ تجارت 2.5 بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں پاکستان کی جانب سے سرحدوں پر سخت انتظامات، افغان شہریوں کے لیے ویزا اور پاسپورٹ کی لازمی شرط، اور غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن شامل ہیں۔
دوسری جانب، افغان حکومت نے بھی اپنی تجارتی راہداریوں کو ایرانی بندرگاہوں جیسے چاہ بہار اور بندر عباس کی طرف موڑنے کا فیصلہ کیا ہے، جو اسے پاکستان پر انحصار کم کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ اس صورتحال سے پاکستان کو ٹرانزٹ فیس اور بندرگاہی محصولات کی مد میں بھاری نقصان ہو رہا ہے، اور پاکستانی ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور کاروباری افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اور علاقائی تجارت کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے، جس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





