بھارتی عدالت نے 59 سالہ سرگرم کارکن سونم وانگچک کو ہسپتال سے رہا کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ سونم وانگچک اس وقت بھوک ہڑتال پر ہیں اور انہیں طبی نگرانی کے لیے ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
سونم وانگچک کی اہلیہ نے عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے شوہر کو زبردستی ہسپتال میں داخل رکھنا ‘غیر قانونی حراست’ کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں فوری طور پر ہسپتال سے رہا کیا جائے کیونکہ ان کی ہسپتال میں موجودگی ان کی مرضی کے خلاف ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا، جس کے بعد سونم وانگچک کی ہسپتال سے رہائی کی کوششیں فی الحال ناکام ہو گئی ہیں۔ ان کی اہلیہ نے عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور وہ اپنے شوہر کی آزادی کے لیے قانونی چارہ جوئی جاری رکھیں گی۔






