تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بار پھر امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی حیثیت روز بروز کھوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کی قومیں اور سرزمین اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے ڈھال کا کام نہیں کریں گی۔
آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان خطے میں امریکی موجودگی اور اس کے اثر و رسوخ کے حوالے سے ایران کے دیرینہ موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اب امریکہ کی پالیسیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی خطے میں مداخلت نے عدم استحکام کو جنم دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج یہاں سے نکل جائیں۔
ایرانی سپریم لیڈر کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے اور علاقائی معاملات پر کشیدگی عروج پر ہے۔ ایران مسلسل امریکہ پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ خطے میں دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے اور اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، جبکہ امریکہ ایران پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ خامنہ ای کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی علاقائی مزاحمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

