ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، جس کا مقصد ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی ہے۔ یہ مذاکرات، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی، قطر کی ثالثی میں جاری ہیں اور ان پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، مذاکرات میں کچھ اہم نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے جو معاہدے کی بحالی کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
تاہم، ایرانی حکام نے مذاکراتی عمل کو انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ اب بھی امریکہ کو ایک ‘غیر قابلِ اعتماد فریق’ سمجھتا ہے۔ یہ عدم اعتماد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2018 میں یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے دستبرداری اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کے بعد سے گہرا ہوا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ امریکہ کو مستقبل میں ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی ضمانتیں فراہم کرنی ہوں گی۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیشرفت کی خبریں حوصلہ افزا ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کی بحالی کے بغیر کسی پائیدار حل تک پہنچنا ایک چیلنج رہے گا۔ ایران کا محتاط رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی حتمی معاہدے سے قبل امریکہ کی جانب سے ٹھوس ضمانتیں چاہتا ہے تاکہ ماضی کی غلطیوں کو دہرایا نہ جا سکے۔ ان مذاکرات کا نتیجہ مشرق وسطیٰ کی علاقائی صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

