آج میدان عرفات میں دنیا بھر سے آئے لاکھوں حجاج کرام نے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جمع ہو کر حج کے رکن اعظم کو مکمل کیا۔ یہ دن حج کا سب سے اہم دن سمجھا جاتا ہے، جہاں حجاج کرام اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں۔ اس موقع پر مسجد نمرہ سے خطبہ حج پیش کیا گیا، جس میں امت مسلمہ کے لیے اہم پیغامات دیے گئے۔
خطبہ حج میں امام نے سچائی، اتحاد اور صبر کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ معاشرے میں امن و امان اور ترقی کے لیے ان بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ خطیب نے مسلمانوں کو آپس میں بھائی چارے اور یگانگت کو فروغ دینے کی تلقین کی، تاکہ امت مسلمہ ایک مضبوط اور متحد قوت بن کر دنیا میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ صبر کو ہر مشکل کا حل قرار دیتے ہوئے، امام نے اس کی فضیلت بیان کی۔
خطبہ حج کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان مضبوط اور سچا رشتہ ہی نجات کا حقیقی راستہ ہے۔ امام نے واضح کیا کہ دنیاوی کامیابی اور اخروی فلاح دونوں کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ انہوں نے حجاج کرام کو تقویٰ اختیار کرنے، حقوق العباد کا خیال رکھنے اور ہر حال میں اللہ پر توکل کرنے کی نصیحت کی۔ اس روحانی اجتماع میں حجاج کرام نے اشکبار آنکھوں سے امت مسلمہ کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔

