تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافے کے ساتھ ہی دونوں ممالک نے ایک بار پھر فوجی کارروائیوں کا تبادلہ کیا ہے۔ اس دوران، پاکستان نے بحران کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے ایران کے وزیر داخلہ کی میزبانی کی، جہاں اہم مذاکرات ہوئے۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب عالمی سطح پر ثالثی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں تاکہ دونوں فریقوں کو مزید تصادم سے روکا جا سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف ایک اور دور کی فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ یہ حملے خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کارروائیوں کے بعد خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
علاقائی استحکام کے لیے ثالثی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، اور پاکستان کا یہ اقدام خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ثالثی کے ذریعے تنازعہ کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں کا سلسلہ خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتا ہے اور اس کے وسیع تر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔





