نیویارک شہر کی سب سے پہچانی جانے والی اور تاریخی عمارتوں میں سے ایک، فلیٹائرن بلڈنگ، اپنی وسیع تزئین و آرائش کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ عمارت، جو اپنی منفرد تکونی شکل اور شاندار فن تعمیر کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہے، اب ایک نئے اور انتہائی پرتعیش دور میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔ کئی سالوں کی محنت اور کروڑوں ڈالر کی لاگت سے جاری یہ بحالی کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد یہ تاریخی ڈھانچہ ایک بار پھر شہر کے افق پر اپنی شان و شوکت بکھیرنے کو تیار ہے۔
اس عمارت کی بحالی کا مقصد اسے جدید دور کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا اور اسے ایک نئی شناخت دینا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، فلیٹائرن بلڈنگ کو اب انتہائی مہنگی اور پرتعیش رہائشی اکائیوں یا دفاتر میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو دنیا کے امیر ترین افراد کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ یہ تبدیلی عمارت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ پہلی بار ہوگا کہ اس کے اندرونی حصے کو اس قدر شاہانہ انداز میں رہائش یا جدید کاروباری مراکز کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس پرتعیش رہائش کا حصہ بننے کے لیے ممکنہ طور پر 58.5 ملین ڈالر تک کی خطیر رقم ادا کرنی پڑ سکتی ہے، جو نیویارک کے مہنگے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں بھی ایک نمایاں قیمت ہے۔
فلیٹائرن بلڈنگ، جو 1902 میں مکمل ہوئی تھی، ابتدا میں ایک دفتر کی عمارت کے طور پر تعمیر کی گئی تھی اور جلد ہی نیویارک کی ایک علامت بن گئی۔ اس کی منفرد شکل، جو مین ہٹن کے دو اہم راستوں، ففتھ ایونیو اور براڈوے کے سنگم پر واقع ہے، اسے دنیا بھر میں مشہور کرتی ہے۔ اس کی بحالی اور اسے ایک نئے پرتعیش مقصد کے لیے تیار کرنا نہ صرف اس کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھے گا بلکہ اسے اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق بھی بنائے گا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کون سے خوش قسمت افراد یا کمپنیاں اس تاریخی عمارت کے نئے، پرتعیش باب کا حصہ بنتے ہیں۔





