ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں میں ‘وقفے’ کے حکم کے بعد ثالثی کرنے والے ممالک نے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کی امیدیں بڑھا رہی ہے۔
دونوں فریقین کی جانب سے حملوں میں یہ تعطل، جس کا آغاز امریکی صدر کے حکم سے ہوا، نے تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لیے نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ وقفہ دونوں ممالک کو تناؤ کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
اگرچہ یہ ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد کے پیش نظر سفارتی راہ ہموار کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔ ثالثی کرنے والے ممالک اب دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پردے کے پیچھے سرگرم عمل ہیں۔



