انڈونیشیا کے مشہور سیاحتی جزیرے بالی میں دو ڈچ شہریوں پر ملک میں دوبارہ داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ پابندی مبینہ طور پر مقامی افراد کے ساتھ امتیازی سلوک اور دیگر خلاف ورزیوں کے الزامات کے بعد لگائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق، ان افراد نے ایک ‘رن کلب’ کے ذریعے ایسی سرگرمیاں منعقد کیں جن میں مقامی آبادی کو نظر انداز کیا گیا یا انہیں شامل نہیں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ان ڈچ شہریوں کی سرگرمیوں کے بارے میں شکایات سامنے آئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ‘رن کلب’ کے ایونٹس میں صرف غیر ملکیوں کو ترجیح دی اور مقامی افراد کو شرکت سے روکا، جس سے مقامی کمیونٹی میں شدید ناراضگی پیدا ہوئی۔ انڈونیشیا کے امیگریشن حکام نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا۔
انڈونیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کو ملک کے قوانین اور مقامی ثقافت کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیاحوں اور رہائشیوں کو مقامی آبادی کے ساتھ احترام اور مساوات کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ یہ پابندی ایک سخت پیغام ہے کہ سیاحتی مقامات پر مقامی افراد کے حقوق اور جذبات کا احترام انتہائی ضروری ہے۔ اس فیصلے کا مقصد بالی کی سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔




