عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی نے حال ہی میں ایکواڈور میں منشیات کے خلاف جاری جنگ کے محاذ پر پولیس کے ساتھ گشت کیا ہے۔ یہ جنوبی امریکی ملک اس وقت منشیات کے جرائم میں غیر معمولی اضافے کی لپیٹ میں ہے، جہاں پولیس کو گینگ، غیر قانونی اسلحہ اور اندرونی بدعنوانی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایکواڈور، جو کبھی خطے کے پرامن ترین ممالک میں سے ایک سمجھا جاتا تھا، اب منشیات کی اسمگلنگ کے اہم راستوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے ملک بھر میں پرتشدد گینگ وار کو جنم دیا ہے، جہاں منشیات فروش گروہ اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے جدید اسلحے کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو نہ صرف ان مسلح اور منظم گینگوں کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے بلکہ انہیں اپنے ہی صفوں میں موجود بدعنوانی سے بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے، جو ان کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، پولیس اہلکار انتہائی خطرناک حالات میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار نے نہ صرف معاشرتی امن کو تباہ کیا ہے بلکہ ریاستی اداروں پر بھی شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ایکواڈور کی حکومت اور اس کی پولیس فورس اس وقت ایک کثیر الجہتی جنگ لڑ رہی ہے جہاں انہیں بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اندرونی کمزوریوں پر بھی قابو پانا ہے۔


