امریکی فوجیوں پر حالیہ حملوں کے بعد امریکہ نے ایران سے منسلک اہداف پر ‘شدید’ جوابی حملے کیے ہیں۔ یہ کارروائی مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے ردعمل میں کی گئی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق، ان حملوں کا مقصد خطے میں امریکی افواج کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
ایک مختصر عرصے کے نسبتاً سکون کے بعد، جب دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی دیکھی گئی تھی، اب میزائل حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس کے فوجی اڈوں اور اہلکاروں کو ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب سے ڈرون اور راکٹ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد یہ جوابی کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔ ایران نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور امریکہ کو خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تازہ حملے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور خطے میں ایک وسیع تر تنازعے کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جبکہ ایران نے بھی اپنی خودمختاری کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل کی ہے۔







