اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ایک تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اس معاہدے کو مسلم دنیا کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
اس معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان جیسے اہم اسلامی ممالک کا ایک دفاعی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا نہ صرف ان ممالک کی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرے گا بلکہ اسلامی دنیا کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط محاذ بھی فراہم کرے گا۔ یہ معاہدہ علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے اور دہشت گردی سمیت دیگر خطرات کا مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ اسلامی یکجہتی کو مزید تقویت بخشے گا اور رکن ممالک کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ مسلم امہ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور عالمی سطح پر ان کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ او آئی سی اس طرح کے اقدامات کی حمایت کرتی ہے جو مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد کو بڑھاتے ہیں۔





