سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امریکی حکمت عملی کے حوالے سے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ ‘کم شدت’ سے کام لے رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران پر اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی ایک عرصے سے جاری ہے اور عالمی سطح پر ان تعلقات کی نوعیت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کے بقول، امریکہ ایران کے ساتھ معاملات میں براہ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے ایک محتاط اور کم جارحانہ حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ تاہم، اس ‘کم شدت’ کی حکمت عملی کے باوجود، سابق صدر نے ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا اشارہ امریکی پابندیوں کی طرف تھا جنہوں نے ایران کی تیل کی برآمدات اور بین الاقوامی مالیاتی لین دین کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کو شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔
اقتصادی دباؤ کو امریکہ کی جانب سے ایران کو اپنے جوہری پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور میزائل پروگرام کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرنے کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی مہم شروع کی تھی، جس کا مقصد ایران کو ایک نئے اور زیادہ جامع معاہدے پر مجبور کرنا تھا۔ اگرچہ ٹرمپ اب صدر نہیں ہیں، ان کے بیانات اب بھی عالمی امور پر ان کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کے ممکنہ مستقبل پر بحث کو جنم دیتے ہیں۔




